Urdu · Nazm
کھلا ورق — Urdu Sample
ویب سائٹ کے لیے تیار کردہ AI کی مدد سے لکھی گئی اصل نمونہ نظم۔ یہ انور کمال کی پہلے سے شائع شدہ تخلیق نہیں ہے۔
میز پر ایک ورق رکھا ہے
صبح کی روشنی کے پاس
میں نے اس پر لفظ لکھا
اور سنی اپنی آواز
دور کہیں اک راہ کھلی
دل نے آہستہ قدم رکھا
چھوٹی سی اس خاموشی میں
میں نے اپنا موسم دیکھا
Leave a Reply
You must be logged in to post a comment.